A massive oil tanker ship stranded in the middle of the ocean under economic sanctions.

امریکی پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا، معیشت خطرے میں!

واشنگٹن (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی شکنجہ مزید سخت کرتے ہوئے تیل کی فروخت پر دی گئی اہم سفارتی رعایت کو اچانک محدود کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ایران کا تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل گہرے سمندر میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ نامور امریکی مالیاتی جریدے ‘بلومبرگ’ کی ایک حالیہ اور ہوشربا رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ویسل ٹریکنگ (بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے) ڈیٹا سے واضح ہوا ہے کہ ایرانی خام تیل سے لبالب لدے درجنوں سپر ٹینکرز اس وقت خلیجِ فارس سے لے کر ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا تک، بین الاقوامی سمندری حدود میں یا تو سست رفتاری سے سفر کر رہے ہیں یا پھر لنگر انداز کھڑے ہیں۔ امریکی پابندیوں کے خوف اور کڑی نگرانی کے باعث اب ان لاکھوں بیرل خام تیل کے سودوں اور ترسیل کا مستقبل شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے، جس سے ایرانی خزانے کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔

عالمی توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جاری حالیہ عسکری کشیدگی برقرار رہی اور امریکی بحریہ نے خلیجی پانیوں میں ایران کے خلاف اپنی بحری ناکا بندی کو مزید سخت کیا، تو سمندر میں پھنسے اس تیل کے علاوہ ایران کا مزید 5 کروڑ بیرل خام تیل اور مختلف ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات بھی پورٹس پر جام ہو جائیں گی اور انہیں برآمد کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ واشنگٹن نے گزشتہ روز ایران پر آبنائے ہرمز جیسے اہم ترین تجارتی بحری روٹ پر بین الاقوامی آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو ڈرونز اور نیول بوٹس کے ذریعے مبینہ طور پر نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی تیل کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کو روکنے کے لیے تعزیرات فوری طور پر دوبارہ نافذ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اس پورے بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ (US Department of the Treasury) نے ایران کو بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل فروخت کرنے کے لیے پہلے سے دی گئی رعایتی مدت (Waiver Period) کو انتہائی ڈرامائی انداز میں کم کر دیا ہے۔ پرانے شیڈول کے تحت ایران کو 21 اگست 2026 تک اپنے پرانے آرڈرز کے مطابق تیل فروخت کرنے کی قانونی اجازت حاصل تھی، تاہم نئی اور کڑی پابندیوں کے تحت اس مہلت کو یکسر محدود کر کے محض 17 جولائی 2026 کر دیا گیا ہے۔ صرف چند دنوں کی اس مختصر مہلت کے باعث ایرانی آئل کمپنیوں کے لیے سمندر میں موجود کارگو کو کوڑیوں کے داموں بیچے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، جس کے نتیجے میں ایرانی معیشت، مقامی کرنسی اور برآمدات پر آنے والے دنوں میں دباؤ اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں