ازبکستان کے نائب وزیراعظم جمشید خوجائیف دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ 20 اور 21 جولائی کو پاکستانی حکام اور اعلیٰ قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کا سب سے اہم پہلو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات اور ترامیم سے متعلق پروٹوکول پر باقاعدہ دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔ اس تاریخی معاہدے سے نہ صرف پاکستان اور ازبکستان کے تجارتی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات میں بھی ایک نیا باب روشن ہوگا۔
تجویز کردہ معاہدے کے تحت چین کوریڈور کو ایک متبادل اور اضافی تجارتی راستے کے طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ خطے میں بدلتی ہوئی امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سامان اور سامانِ تجارت کی بلا تعطل نقل و حمل جاری رکھی جا سکے۔ اس نويں تجارتی انتظام سے پاکستان، ازبکستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے لیے چین کے جغرافیائی راستے کو استعمال کرتے ہوئے تجارتی رسائی حاصل کرے گا، جبکہ جواباً ازبکستان کو کراچی اور گوادر کی پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست اور آسان رسائی کی سہولت بدستور دستیاب رہے گی۔
نائب وزیراعظم کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور علاقائی روابط کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، جس میں آئندہ پانچ سالہ تجارتی و اقتصادی تعاون کے روڈ میپ پر اہم پیش رفت کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ دورے کے دوران ایک خاص بزنس ٹو بزنس (B2B) فورم کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں ازبکستان کی 100 سے زائد معروف کمپنیوں کے نمائندے شرکت کر کے پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کو وسطی ایشیا کی بڑی منڈیوں سے جوڑنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔
