کراچی ( بزنس رپورٹر) آغوش ہوم ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام مدرز ڈے کے موقع پر آغوش ہوم میں ایک پُروقار، جذباتی اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں آغوش ہوم کی رہائشی ماؤں اور جسمانی معذوری کا شکار یتیم بچیوں کے ساتھ محبت، احترام اور عقیدت کا اظہار کیا گیا۔ آغوش ہوم گزشتہ 25 برس سے اپنی صدر محترمہ شگفتہ صبا کی قیادت میں بے سہارا بزرگ خواتین اور خصوصی یتیم بچیوں کی خدمت انجام دے رہا ہے۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور آغوش ہوم کی خدمات کو انسانیت کی عظیم مثال قرار دیا۔ تقریب میں بیرسٹر شاہدہ جمیل، گرین وچ یونیورسٹی کی چانسلر سیما مغل، آئی او بی ایم کے فیلو سفیر (ر) حسن حبیب، عبدالرؤف تابانی، پاکستان میں معروف آیورویدک ڈاکٹر ڈاکٹر ناصر سلیم ناساکا، سابق چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم پراجیکٹ اور سیکریٹری جنرل ایشیا پیسیفک ہاؤسنگ آرگنائزیشن ضیغم محمود رضوی، بریگیڈیئر (ر) کرار حسین، پاپولر گروپ کے صائم جنید ملک، نیشنل بینک آف پاکستان کے سینئر نائب صدر علی زیب، معروف ماہرِ معاشیات عتیق الرحمٰن، حاجی مسعود پاریکھ، مہوش پاریکھ، شکیل بیگ، معروف مصور جمی انجینئر، نعمان احمد، منظر نقوی اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز آغوش ہوم کی نابینا اور خصوصی بچی محترمہ کائنات کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے حاضرین پر ایک روحانی کیفیت طاری کر دی۔ بعد ازاں آغوش ہوم کی ایک رہائشی بزرگ خاتون نے عقیدت و احترام کے ساتھ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس سے محفل مزید پُرنور ہو گئی۔
تقریب کے دوران آغوش ہوم میں مقیم بعض بزرگ ماؤں نے اپنی زندگی کی داستانیں سنائیں اور بتایا کہ کس طرح حالات، تنہائی اور بے بسی نے انہیں آغوش ہوم تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ آغوش ہوم نے انہیں نہ صرف رہائش بلکہ عزت، محبت اور ایک خاندان جیسا ماحول فراہم کیا۔ ان جذباتی واقعات نے تقریب میں موجود افراد کو آبدیدہ کر دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے محترمہ شگفتہ صبا اور آغوش ہوم ٹرسٹ کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب بزرگ والدین خصوصاً ماؤں کو اکثر تنہائی اور بے توجہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے میں آغوش ہوم جیسا ادارہ امید اور انسانیت کی روشن مثال ہے۔
بیرسٹر شاہدہ جمیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آغوش ہوم خدمتِ انسانیت کی ایک شاندار مثال ہے اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ اس فلاحی مشن میں بھرپور تعاون کریں۔ سیما مغل نے کہا کہ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مخیر حضرات کو ایسے اداروں کی سرپرستی کرنی چاہیے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو بہتر سہارا فراہم کیا جا سکے۔
سفیر (ر) حسن حبیب نے کہا کہ ماں کا مقام دنیا میں سب سے بلند ہے اور ہمیں صرف ایک دن نہیں بلکہ ہر روز اپنی ماؤں کی عزت، محبت اور خدمت کو یقینی بنانا چاہیے، خصوصاً ان ماؤں کی جو زندگی کے مختلف حالات کے باعث بے سہارا ہو چکی ہیں۔
ضیغم محمود رضوی، شکیل بیگ، ڈاکٹر ناساکا اور معروف ماہرِ معاشیات عتیق الرحمٰن نے بھی آغوش ہوم کی خدمات کو سراہتے ہوئے مخیر حضرات، کارپوریٹ اداروں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس فلاحی مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ یہ ادارہ مزید مستحق خواتین اور خصوصی بچیوں کی خدمت جاری رکھ سکے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے آغوش ہوم کی رہائشی ماؤں اور بچیوں کے ساتھ وقت گزارا، مدرز ڈے کا کیک کاٹا اور ان کے ساتھ محبت و شفقت کا اظہار کیا۔ تقریب کے دوران ایک خوشگوار، جذباتی اور پُرامید ماحول دیکھنے میں آیا جہاں دعاؤں، مسکراہٹوں اور محبت بھرے جذبات نے ہر دل کو متاثر کیا۔