عالمی توانائی قیمتوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی پالیسی برقرار رہے گی؛ جنوری 2027 سے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق ہوگا
ویب ڈٰسک 15 مئی 2026
حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری بجٹ مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں بڑی اصلاحات اور قیمتوں میں اضافے کی باقاعدہ یقین دہانی کرا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت نے واضح کیا ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ لاگت کی مکمل وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی ایم ایف کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی جاری رہے گی، جبکہ نیپرا کی سہ ماہی اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹس کو بھی بروقت نافذ کیا جائے گا۔
حکومتی منصوبے کے مطابق، مالی سال 2027 کے لیے بجلی کی سبسڈی کو جی ڈی پی کے محض 0.6 فیصد یعنی 830 ارب روپے تک محدود رکھا جائے گا، جو کہ صرف ڈسکوز، کے الیکٹرک اور زرعی ٹیوب ویلز جیسے ضروری شعبوں کے لیے ہوگی۔ اس کے علاوہ، حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جنوری 2027 سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ مذاکرات میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت مالی سال 2031 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ مالی سال 2027 میں اس قرضے میں اضافے کو 300 ارب روپے تک محدود رکھا جائے گا۔
توانائی کے شعبے میں نجکاری اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کی نجکاری کا عمل 2027 کے آغاز تک مکمل کر لیا جائے گا۔ مزید برآں، آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ بقایاجات اور جرمانوں سے متعلق معاہدوں کو جون 2026 تک حتمی شکل دی جائے گی۔ گیس کے شعبے میں بھی شفافیت لانے کے لیے گردشی قرضے کا ڈیٹا ہر تین ماہ بعد پبلک کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان سخت اصلاحات سے بجلی اور گیس کے نظام کی کارکردگی بہتر ہوگی اور نقصانات میں کمی آئے گی، تاہم اس کے نتیجے میں عام صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔