مسجدِ نمرہ سے خطبۂ حج، غروبِ آفتاب تک دعاؤں اور توبہ و استغفار کا سلسلہ؛ سعودی حکومت کی جانب سے شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی انتظامات
رپورٹ : ولید چوہدری ریاض | 26 مئی 2026
آج 9 ذوالحجہ 1447 ہجری، حج کا سب سے اہم اور مقدس دن ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندانِ اسلام آج حج کے رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ عازمینِ حج نے رات منیٰ کے خیموں میں قیام، عبادت اور ذکر و اذکار میں گزاری، جہاں سے وہ آج صبح ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔
حج کا اہم ترین دن
میدانِ عرفات میں آج کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عازمینِ حج آج مسجدِ نمرہ سے دیا جانے والا خطبۂ حج سماعت کریں گے، جس کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ غروبِ آفتاب تک لاکھوں حجاجِ کرام میدانِ عرفات میں کھلے آسمان تلے اپنے رب کے حضور توبہ و استغفار، دعاؤں اور گڑگڑا کر اپنی مغفرت کی دعائیں مانگیں گے۔

آئندہ کا لائحہ عمل
غروبِ آفتاب کے بعد حجاج کرام کا قافلہ مزدلفہ کی جانب روانہ ہوگا، جہاں وہ کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر ادا کی جائیں گی اور حجاج کرام جمرات کو کنکریاں مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔ کل 10 ذوالحجہ (عید الاضحیٰ) کو حجاج دوبارہ منیٰ واپس پہنچیں گے، جہاں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد سنتِ ابراہیمی کے مطابق قربانی کی جائے گی، جس کے بعد سر کے بال منڈوا کر یا قصر کر کے احرام کھول دیا جائے گا اور مسجد الحرام جا کر طوافِ زیارت ادا کیا جائے گا۔
شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے انتظامات
سعودی حکام کی جانب سے اس سال شدید گرمی کے پیشِ نظر حجاج کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ عرفات کے میدان میں سایہ دار شیڈز، جدید کولنگ فینز اور ٹھنڈے پانی کی پھوار (Mist Systems) نصب کیے گئے ہیں تاکہ درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ عازمین کی آسانی کے لیے خصوصی نرم راستے (Pedestrian Paths) تیار کیے گئے ہیں تاکہ پیدل چلنے والے حجاج کو کم سے کم تھکن محسوس ہو۔
سونا سستا: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں نمایاں کمی
سعودی حکومت اور سکیورٹی ادارے حجاج کرام کی حفاظت اور پرامن عبادات کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح چوکس ہیں، تاکہ لاکھوں زائرین بغیر کسی پریشانی کے اپنے فریضۂ حج کی تکمیل کر سکیں۔