کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ سامنے آ گیا ہے۔ مقتول کے والد حسین نے میڈیا سے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ واقعے کے بعد سے ان کے بیٹے کا بزنس پارٹنر پراسرار طور پر غائب ہے اور پولیس نے اس حوالے سے محض ایک بار ہی سرسری تفتیش کی ہے۔ والد کے مطابق بزنس پارٹنر کی اچانک گمشدگی اور روپوشی کیس میں کئی بڑے سوالات کو جنم دے رہی ہے، جس پر تفتیشی ٹیم کی توجہ کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
مقتول کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ وزیرِ داخلہ اور میئر کراچی نے گزشتہ روز ان سے ملاقات کی تھی اور کیس پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی پیشکش کی تھی، جس پر انہوں نے سوچ سمجھ کر حتمی جواب دینے کا کہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں کام کرنے والی نئی تحقیقاتی کمیٹی پر پورا اعتماد ہے کیونکہ وہ ایک سچے اور اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں اور امید ہے کہ یہ کمیٹی جلد سچائی کو سامنے لائے گی۔
تفتیشی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے والد نے کہا کہ گلستانِ جوہر میں واقع جس گیسٹ ہاؤس کا ذکر سامنے آیا تھا، وہاں کے ملازمین سے ہونے والی تفتیش کی کوئی رپورٹ ان کے ساتھ شیئر نہیں کی جا رہی اور نہ ہی گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب تک سامنے لائی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبات کیے ہیں کہ کیس کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے تمام تر معلومات اور سی سی ٹی وی شواہد کو منظرِ عام پر لایا جائے تاکہ مقتول میر رضا کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔
