بھاری سود پر قرض، چیک بکس اور اے ٹی ایم کارڈز رکھنے کا الزام، متاثرین کا ایس ایس پی سے کارروائی کا مطالبہ
جیکب آباد (نمائندہ خصوصی) جیکب آباد میں سود خوری کا گھناونا دھندا ایک بار پھر عروج پر پہنچ گیا، شہریوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین بھی سود خوروں کے شکنجے میں آگئے۔ شہریوں کے مطابق ضرورت مند افراد کو فوری طور پر بھاری سود پر قرض فراہم کیا جاتا ہے، تاہم بعد ازاں سود اور اضافی رقم کی ادائیگی کا ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کے باعث قرض دار اصل رقم واپس کرنے کے باوجود بھی قرض سے نجات حاصل نہیں کرپاتے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سود خور قرض کی رقم کے عوض لوگوں سے جائیداد، مکانات اور دیگر قیمتی اثاثوں کی دستاویزات اپنے پاس رکھ لیتے ہیں جبکہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں جائیدادوں اور گھروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔متاثرین کے مطابق سود خور خصوصاً سرکاری ملازمین کو اپنے چنگل میں پھنساتے ہیں اور قرض دینے کے بعد ان کی چیک بکس، اے ٹی ایم کارڈز اور دیگر مالی دستاویزات بھی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض ملازمین اپنی تنخواہوں کے استعمال سے بھی محروم ہوجاتے ہیں اور ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ قرض اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سود خوری کے باعث متعدد خاندان مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور معاشی پریشانیوں کا شکار ہیں، تاہم سود خوروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث یہ غیر قانونی کاروبار مزید پھیلتا جارہا ہے۔جیکب آباد کے شہریوں نے ایس ایس پی جیکب آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ سود خوری کے کاروبار کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کرتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں۔ شہریوں نے سود خوری کے خاتمے کے لیے باقاعدہ شکایتی نظام قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ افراد بلاخوف اپنی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچاسکیں۔
