941 فٹ اونچی اور 82 منزلہ عمارت کا منصوبہ ڈی ایچ اے سٹی میں 6 ایکڑ اراضی پر تعمیر ہوگا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے این او سی (NOC) جاری کر دیا
ویب ڈیسک
کراچی: روشنیوں کے شہر کراچی کے افق پر ایک نیا اور عظیم الشان تعمیراتی سنگِ میل سجنے جا رہا ہے۔ شہرِ قائد کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑی معاشی و تعمیراتی پیش رفت کے تحت پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین عمارت ’’برجِ قائد‘‘ کی تعمیر کا باضابطہ اور حتمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ فلک بوس منصوبہ ملک میں جدید ہائی رائز ڈیولپمنٹ اور تعمیراتی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
یہ تاریخی معاہدہ ڈی ایچ اے سٹی کراچی (DHA City Karachi) اور نجی تعمیراتی ادارے ‘اے بی ایس ڈیولپرز’ کے مابین طے پایا ہے، جس کے تحت اس میگا پروجیکٹ کے تعمیراتی کاموں کا آغاز جلد کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ فلک بوس عمارت 82 منزلوں پر مشتمل ہوگی۔
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق، 941 فٹ بلند ’’برجِ قائد‘‘ تکمیل کے بعد پاکستان کی بلند ترین عمارت کا اعزاز اپنے نام کر لے گی۔ یہ شاہکار کراچی میں ڈی ایچ اے سٹی کے اندر تقریباً 6 ایکڑ اراضی پر محیط ہوگا، جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اس کی تزئین و آرائش اور تعمیراتی کاموں کو مکمل کرنے کے لیے 6 سال کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس میگا پروجیکٹ کے راستے میں آنے والی بڑی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے فضائی حدود اور بلندی کے حوالے سے 941 فٹ کا باقاعدہ این او سی (No Objection Certificate) بھی جاری کر دیا ہے۔ اے بی ایس ڈیولپرز اس عظیم الشان منصوبے پر عالمی سطح کے مقتدر ماہرین، انجینئرز اور کنسلٹنٹس کی براہِ راست نگرانی میں کام کرے گا تاکہ زلزلے اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ سمیت جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
معاشی اور رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق، ’’برجِ قائد‘‘ کی تعمیر سے کراچی میں نہ صرف جدید شہری انفراسٹرکچر اور ہائی رائز کلچر کو فروغ ملے گا، بلکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔ یہ عمارت مستقبل میں کراچی کی معاشی ترقی اور بین الاقوامی پہچان کا ایک نیا استعارہ بن کر ابھرے گی۔