سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویز؛ فنانس بل 2026ء میں بڑی تبدیلیاں، ٹیکس وصولی کا طریقہ اور اہم تفصیلات منظرِ عام پر!

کراچی (ویب ڈیسک) 23 جون 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 2026ء کی منظوری کے لیے اپنی ترمیم شدہ جامع رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے، جس میں ملکی معیشت اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے متعدد اہم اور انقلابی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ان سفارشات میں سب سے اہم فیصلہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (جیسے یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ) سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ اس نئے مانیٹرنگ نظام کے تحت جب یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریٹرز کی ڈالر آمدن بینکوں کے ذریعے پاکستان منتقل ہوگی، تو بینکنگ چینل پر ہی خودکار طریقے سے 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس وضع کر لیا جائے گا۔

کمیٹی نے معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے غیر رجسٹرڈ دکانداروں پر بھی 5 فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی سخت سفارش کی ہے، جبکہ ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹرز پر عائد 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو مکمل ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ، چار سال کی مدت سے قبل لائف انشورنس پالیسی سے منافع نکلوانے والوں پر 4 فیصد ٹیکس عائد کرنے، پی آئی اے کے طیاروں کے پرزہ جات کی خریداری اور تجارتی جہازوں و ٹینکرز کی مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دینے کی تجاویز بھی اس رپورٹ کا حصہ ہیں۔ عوام کے لیے ایک بڑی ریلیف کے طور پر پیٹرولیم لیوی سے متعلق مجوزہ شق کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کی رقم کو آسان اقساط میں ادا کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے، بشرطیکہ یہ ٹیکس مالی سال کے اختتام سے پہلے لازمی پورا ادا کیا جائے۔

صنعتی اور آٹو سیکٹر کے لیے بھی بڑے فیصلوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسٹیل صنعت کے لیے اب بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا جدید نظام متعارف کرایا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل طور پر مربوط اسٹیل یونٹس کے لیے رعایتی ٹیکس کی شرح کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ گاڑیوں کے شعبے میں، 75 ہزار ڈالر تک مالیت کی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 0 فیصد تجویز کی گئی ہے۔ دوسری جانب، درآمدی لگژری گاڑیوں پر ٹیکسوں کی شرح میں مزید بھاری اضافہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت 2000 سے 3000 سی سی کی گاڑیوں پر 86 فیصد اور 3000 سی سی سے زائد کی لگژری گاڑیوں پر 92 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کا بالکل نیا نظام لایا جا رہا ہے، جس میں 1000 سی سی تک کی گاڑیوں کا سالانہ ٹوکن ٹیکس 20 ہزار روپے مقرر کرنے اور بڑی گاڑیوں کا ٹیکس ان کی انوائس ویلیو (اصل قیمت) سے منسلک کرنے کی تجویز ہے۔

ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایف بی آر (FBR) اور کسٹمز کے نظام میں تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ کسٹمز مقدمات میں براہِ راست رابطے ختم کرنے کے لیے فیس لیس سماعت، ای-ایڈجوڈیکیشن اور ورچوئل کارروائی کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ کسٹمز گوداموں میں چھیڑ چھاڑ یا ضبط شدہ سامان میں ردوبدل کرنے والوں کو 5 سال قید تک کی سخت سزا دی جائے گی۔ ٹیکس چوری روکنے کے لیے بڑے ریٹیلرز (بزنس مینوں) کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ اور مانیٹرنگ کا دائرہ کار بڑھا کر 20 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار کرنے والوں پر سخت شرائط لاگو کی جائیں گی۔ فرضی یا جعلی ٹیکس انوائسز جاری کرنے والوں پر انوائس کی اصل مالیت کے برابر بھاری جرمانہ عائد ہوگا اور قانون کی خلاف ورزی پر کاروباری مراکز کو سیل کرنے کا اختیار بڑھا کر غیر رجسٹرڈ کاروباروں پر 50 لاکھ روپے تک جرمانہ لگایا جا سکے گا۔ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے ‘قومی فیس لیس سینٹر’ قائم کیا جائے گا، جہاں ای-ہیرنگ اور فیس لیس آڈٹ کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور ایف بی آر الگورتھم کی بنیاد پر تمام کیسز کو شفاف طریقے سے مانیٹر کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں