A sleek visual graphic depicting an emergency police siren beacon light without text

کراچی میں درندگی کی انتہا! 3 سالہ زونیشہ سے بہیمانہ زیادتی، رشتے دار ہی درندے نکلے

کراچی میں 3 سالہ معصوم بچی زونیشہ کے ساتھ انتہائی بہیمانہ اور زبادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے شہر کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ بچی کو انتہائی تشویشناک حالت میں متعدد مقامی اسپتالوں کے چکر لگوانے کے بعد بالآخر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بچی کے معائنے کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچی کی حالت کو انتہائی نازک قرار دیا جا رہا ہے اور اسے ایمرجنسی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پولیس نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کر دی ہے اور ابتدائی تفتیش کے بعد بچی کے سوتیلے ماموں اور سوتیلے نانا کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس گھناؤنے جرم میں بچی کی سوتیلی والدہ کے ملوث ہونے کے حوالے سے بھی باریک بینی سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے تمام مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے یکجا کیے جا رہے ہیں تاکہ کیس کو سائنسی بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکے۔

شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے اس دردناک اور انسانیت سوز واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے درندوں کو سرِ عام عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فی الوقت ننھی زونیشہ جناح اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور طبی ماہرین کی ٹیمیں اس کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مظلوم بچی کو مکمل انصاف فراہم کرنے کے لیے ملزمان کے خلاف سخت ترین قانونی شقیں شامل کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں