ناقص کارکردگی اور تاخیر پر پرانا کنٹریکٹ اور جوائنٹ وینچر معاہدہ منسوخ؛ نمائش تا موسمیات 12.85 کلومیٹر طویل کوریڈور پر تعمیراتی کام تیز کرنے کے لیے مکسڈ ٹریفک لینز کو 90 روز میں مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر
علیم نواب خان سے
کراچی: سندھ کابینہ نے کراچی کے سب سے بڑے ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں سے ایک، “بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ 2” (BRT Red Line Lot-2) کی تعمیر کو ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس (CM House) میں صوبائی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بھیجی گئی اہم سمری کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق، بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ 2 کے تعمیراتی کاموں میں غیر معمولی تاخیر اور سابقہ ٹھیکیداروں کی ناقص کارکردگی کا سخت نوٹس لیا گیا۔ کابینہ نے ترقیاتی کاموں کی سست روی کے باعث پرانا کنٹریکٹ فوری طور پر منسوخ کرنے اور سابقہ جوائنٹ وینچر (JV) معاہدہ ختم کرنے کی حتمی منظوری دے دی۔
ہنگامی بنیادوں پر ایف ڈبلیو او (FWO) کا انتخاب
شہر کی اس اہم ترین شاہراہ پر شہریوں کو درپیش سفری مشکلات کے پیشِ نظر، سندھ کابینہ نے یہ منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر ملک کے مقتدر تعمیراتی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کو سونپنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایف ڈبلیو او کو یہ کام براہِ راست معاہدے (Direct Contracting) اور حکومت سے حکومت (G2G) کی بنیادوں پر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لاٹ 2 کا یہ اہم ترین منصوبہ نمائش چورنگی تا موسمیات تک 12.85 کلومیٹر طویل حصے پر مشتمل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے 90 روز کی سخت ڈیڈ لائن
وزیراعلیٰ سندھ نے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے ایف ڈبلیو او کو ہنگامی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ہدایت کی کہ یونیورسٹی روڈ پر مکسڈ ٹریفک لینز (عام گاڑیوں کے چلنے کے راستے) کی بحالی اور تعمیراتی کام کو ہر صورت 90 روز (3 ماہ) کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ روڈ کے ساتھ ساتھ انڈر پاسز، فلائی اوورز (بلند ڈھانچوں) اور برساتی نالوں سمیت نکاسیٔ آب (Drainage System) کے نظام کی تعمیر میں بھی تیزی لائی جائے۔
صوبائی کابینہ نے منصوبے کو فنڈز کی کمی سے بچانے کے لیے آپریٹنگ کمپنی ‘ٹرانس کراچی’ کو ہنگامی بنیادوں پر آف بجٹ فنڈز (Off-Budget Funds) فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔ اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کنٹریکٹ ملتے ہی ایف ڈبلیو او نے تندہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر اپنا بھاری عملہ اور جدید ترین مشینری تعینات کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی کی اس اہم ترین معاشی شاہراہ کی بحالی کے لیے تمام اقدامات جنگی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں اور بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تکمیل سے شہر کے مرکز میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔