A security report visual banner indicating CCTV camera breakthrough and suspects detention in Mir Raza Ali case

کراچی: میر رضا قتل کیس تفتیش میں اہم پیشرفت، 19 افراد زیرِ حراست اور نئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے مبینہ قتل کیس کی تفتیش میں پولیس کے تفتیش کاروں کو انتہائی اہم اور کلیدی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے واقعے سے متعلق 29 جولائی کی صبح 8 بجے کی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے، جس میں ایک کچرہ چننے والے شخص کو جائے وقوع پر آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہ مشتبہ شخص تقریباً 8 منٹ تک وہاں موجود رہا اور یہ قوی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقتول کا اسلحہ ممکنہ طور پر یہی شخص اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ یاد رہے کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو صبح 11 بجے کے بعد برآمد ہوئی تھی اور تفتیشی ٹیمیں فوٹیج کی مدد سے اس شخص کی شناختی کارروائی میں مصروف ہیں۔

پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کیس کے تمام زاویوں پر باریک بینی سے پیش رفت کرتے ہوئے اب تک مجموعی طور پر 19 افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ زیرِ حراست افراد میں نجی گیسٹ ہاؤس کے ملازمین، تاجر کے بزنس پارٹنرز، ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور اور وہ افراد شامل ہیں جن کے پاس سے مقتول میر رضا علی کا برآمد شدہ موبائل فون ملا تھا۔ اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے کیس سے منسلک ان تمام اہم افراد کی حراست کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے اور تمام شواہد کو سائنسی بنیادوں پر یکجا کیا جا رہا ہے۔

خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دیے جانے کے بعد پولیس کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ فارنزک ماہرین، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور حراست میں لیے گئے افراد کے بیانات کی روشنی میں واقعی کے اصل حقائق جلد سامنے آ جائیں گے۔ پولیس انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مقتول کے خاندان کو مکمل انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں