کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی اور معروف کمپنی ولفکس کے بانی میر رضا علی کے مبینہ قتل کیس میں میڈیکل لیگل اور فرانزک ماہرین کی جانب سے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتول کی لاش برآمدگی کے وقت تقریباً 24 سے 36 گھنٹے پرانی اور گلی سڑی حالت میں تھی۔ میڈیکل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقتول کو ایک گولی سینے پر لگی جو کمر کے راستے باہر نکل گئی، جس سے دل اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا اور جسمانی اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتول میر رضا علی کی موت کی بنیادی اور ممکنہ وجہ ‘ہیمرجک شاک’ (Hemorrhagic Shock) کو قرار دیا گیا ہے، جو کہ جسم سے بے تحاشا خون بہہ جانے کے باعث دماغ اور دیگر حیاتیاتی اعضاء کے مفلوج ہونے سے واقع ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ابتدائی معائنے کے دوران جسم پر کسی اور قسم کی تازہ چوٹ یا ہڈی ٹوٹنے (فریکچر) کے شواہد نہیں ملے۔ اس کے علاوہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ راحیل نے بھی تصدیق کی ہے کہ مقتول کو صرف ایک گولی لگی تھی، جبکہ لاش پر کسی قسم کے تشدد یا اسے جھلسانے کے کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔
میڈیکو لیگل ٹیم نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیمیائی اور کیمیکل تجزیے کے لیے مقتول کے معدے، جگر، گردے اور تلی کے نمونے محفوظ کر کے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔ کیمیائی تجزیے کی حتمی رپورٹ فی الحال موصول ہونا باقی ہے، اور ابتدائی رپورٹ کے نتائج اسی حتمی فرانزک رپورٹ سے مشروط ہوں گے۔ دوسری جانب تفتیشی ادارے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کیس کے تمام زوایوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ قتل کے اصل ذمہ داروں کا سراغ لگایا جا سکے۔
