سعد ایدھی کا ہنگامی پیغام، رابطہ منقطع، رضاکاروں کی سلامتی پر تشویش، ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کا اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

مصطفیٰ سلامہ کی ایورسٹ مہم کو خراجِ تحسین—فلسطینی بچوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش
لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت، خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل
کراچی (رپورٹ: علیم نواب خان)

ایچ ایم آر گروپ اور ورلڈ کشمیر فورم کے روحِ رواں ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے غزہ جانے والی امدادی کشتیوں کو اسرائیل کی جانب سے روکنے اور رضا کاروں کی گرفتاری کے واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں ڈاکٹر حاجی محمد حاجی محمد رفیق پردیسی نے کہا کہ عالمی برادری کی موجودگی میں نہتے انسانی ہمدردی کے مشن کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی قافلوں پر فائرنگ اور سو سے زائد افراد کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انہوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کے نمائندے سعد ایدھی کے اس پیغام پر گہری تشویش کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “یہ شاید ہماری آخری اپڈیٹ ہو”۔ ڈاکٹر پردیسی نے کہا کہ سعد ایدھی اور دیگر رضا کاروں کی سلامتی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ان سے رابطہ بحال کیا جائے۔ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیں اور غزہ کے مظلوم عوام تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام بالخصوص بچوں پر ہونے والے مظالم پوری انسانیت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

انہوں نے کوہ پیما مصطفیٰ سلامہ کے اس اقدام کو بھی سراہا جس کے تحت وہ فلسطینی بچوں کے خوابوں کی نمائندگی کرتی پتنگ کو ماؤنٹ ایورسٹ تک لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر پردیسی کے مطابق یہ اقدام دنیا کو ایک مضبوط پیغام دے گا کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں ہیں۔مزید برآں، انہوں نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مذمت کی جن میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور فوری جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھائے اور متاثرہ افراد کی حفاظت کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں