General Directorate of Residency and Foreigners Affairs (GDRFA) building or Dubai airport immigration counter terminal

دبئی کا 5 سالہ ملٹی پل انٹری سیاحتی ویزا: شرائط میں بڑی نرمی، اب بغیر اسپانسر سفر ممکن

دبئی (ویب ڈیسک) — 16 جولائی 2026

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک بڑا اور خوش آئند فیصلہ کرتے ہوئے دبئی کے 5 سالہ ملٹی پل انٹری سیاحتی ویزے کی شرائط میں نمایاں نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔ دبئی امیگریشن کے اعلیٰ ترین ادارے “جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز” (GDRFA) کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز کے مطابق، اب دنیا بھر کے شہری کسی بھی مقامی اسپانسر، ٹریول ایجنٹ یا اماراتی میزبان کے بغیر ہی براہِ راست اس ویزے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور 5 سال کے دوران جتنی بار چاہیں متحدہ عرب امارات کا سفر کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد دبئی کو عالمی سیاحت اور کاروبار کا مستقل مرکز بنانا ہے۔

نئے ویزا قوانین کے تحت، اس 5 سالہ ملٹی پل انٹری ویزے پر امارات پہنچنے والے سیاحوں کو ہر بار آمد پر ملک کے اندر مسلسل 90 روز (3 ماہ) تک قیام کرنے کی قانونی اجازت ہوگی۔ مزید برآں، اگر کوئی سیاح اپنے قیام کو طول دینا چاہے تو وہ ملک سے باہر جائے بغیر ہی اپنے ویزے میں مزید 90 روز کی توسیع (ایکٹینشن) حاصل کر سکتا ہے، یعنی ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 180 دن تک یو اے ای میں گزارے جا سکتے ہیں۔ اس ویزے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس نے روایتی ویزوں کی طرح بار بار درخواست دینے اور ہر چکر پر نئے اخراجات اٹھانے کا جھنجھٹ مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، جس سے کاروباری افراد اور کثرت سے سفر کرنے والوں کو بڑی سہولت ملے گی۔

امیگریشن حکام نے جہاں ایک طرف اسپانسر کی شرط ختم کر کے سہولت فراہم کی ہے، وہیں دوسری طرف مالیاتی شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم شرط برقرار رکھی ہے۔ نئی شرائط کے مطابق، ویزا حاصل کرنے کے خواہشمند کسی بھی درخواست گزار کے بینک اکاؤنٹ میں کم از کم 4 ہزار امریکی ڈالر (یا اس کے مساوی کسی دوسری ملکی کرنسی) کا بینک بیلنس ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور درخواست کے ساتھ گزشتہ 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرانا ہوگی۔ ٹریول انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، شرائط میں اس نرمی کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر سے دبئی جانے والے سیاحوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ متوقع ہے کیونکہ اب عام متوسط طبقہ بھی بغیر کسی مقامی سفارشی یا ضامن کے طویل مدتی ویزا آسانی سے حاصل کر سکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں