نیو کراچی میں تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک؛ ایس آئی یو (SIU) نے تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا

مٹھائی اور سگریٹ دکان مالکان کو پیٹرول بم اور قتل کی دھمکیوں کے بعد انڈسٹریل ایریا میں خوف و ہراس؛ منگل کو 4 کے چورنگی پر رقم پہنچانے کی ڈیڈ لائن، پولیس اور خفیہ اداروں کی خصوصی ٹیمیں تشکیل

کرائم رپورٹر

کراچی: نیو کراچی صنعتی ایریا (صنعتی زون) میں مٹھائی اور سگریٹ کی دکانوں کے مالکان کو 25 لاکھ روپے بھتے کی پرچیاں موصول ہونے اور عدم ادائیگی پر پیٹرول بم سے اڑانے کی سنگین دھمکیوں کے بعد، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس ونگز ہائی الرٹ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز اس خبر کے منظرِ عام پر آنے اور دکانداروں میں شدید خوف و ہراس پھیلنے کے بعد، اب اس کیس میں اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (SIU) نے سی سی ٹی وی (CCTV) فٹیجز اور جیو فینسنگ کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت (Follow-up)
ذرائع کے مطابق، مٹھائی کی دکان کے مالک محمد بلال کو دی گئی “منگل کی شام 4 بجے” کی ڈیڈ لائن کے پیشِ نظر، پولیس اور رینجرز نے فور کے چورنگی (4K Chorangi) اور اس سے متصل “تھانے والے روڈ” پر سادہ لباس میں ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لیے باقاعدہ جال بچھا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انڈسٹریل ایریا کے فیکٹری مالکان سے بھتہ طلبی کا کیس پہلے ہی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (AVCC) کو منتقل کیا جا چکا تھا، تاہم اب ان دونوں چھوٹے تاجروں کے مقدمات (مقدمہ نمبر 305 اور 306) کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایس آئی یو (SIU) کے اعلیٰ افسران خود تفتیش کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ شہر میں بھتہ خوری کے جن کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکا جا سکے۔

دکانداروں کو موصول ہونے والی خوفناک دھمکیاں
سیکیورٹی حکام کو جمع کرائی گئی تحریری شکایات اور بیانات کے مطابق بھتہ خوروں نے دونوں تاجروں کو مختلف تاریخوں پر نشانہ بنایا لیکن دکانداروں نے خوف کی وجہ سے 20 مئی کو پولیس سے رجوع کیا۔ ملزمان کا طریقہ کار انتہائی ہولناک تھا:

سگریٹ دکان کے مالک (محمد صادق): نیو کراچی سیکٹر 5-ایف کے رہائشی تاجر سے 15 لاکھ روپے کا بھتہ مانگا گیا ہے۔ پرچی میں تحریر تھا: “ہم نے تم پر نظر رکھی ہوئی ہے، زیادہ ہوشیاری مت کرنا۔ اگر بھتہ نہ دیا تو گولی نہیں ماریں گے، بلکہ دکان پر پیٹرول بم مار کر سب کچھ راکھ کر دیں گے۔”

مٹھائی دکان کے مالک (محمد بلال): سیکٹر 5-جی کے تاجر سے 10 لاکھ روپے طلب کیے گئے ہیں۔ انہیں دھمکی دی گئی ہے کہ “اگر بھائیوں کی زندگی چاہتے ہو تو منگل کی شام 4 بجے فور کے چورنگی سے آگے تھانے والے روڈ پر پیسے لے کر کھڑے ہو جانا۔ پولیس یا رینجرز کو بتایا تو اچھا نہیں ہوگا، تمہارا بھائی ہمارے نشانے پر ہے۔”

تاجر برادری کا ردِعمل اور سیکیورٹی مطالبات
نیو کراچی ٹریڈرز ایسوسی ایشن اور مقامی دکانداروں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چھوٹے دکانداروں کو اس طرح سرعام نشانہ بنایا گیا تو کاروبار کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ تاجروں نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں سیکٹرز (5-ایف اور 5-جی) میں پولیس پٹرولنگ بڑھائی جائے اور دکانداروں کو فوری سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

ایس آئی یو حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ پرچیاں کسی مقامی مجرمانہ گروہ یا جیل میں بیٹھے عناصر کی کارستانی معلوم ہوتی ہیں جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ پولیس نے تاجروں کو یقین دلایا ہے کہ منگل کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے گا اور تاجروں کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں